اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق سید الشہداء امام حسین (ع) کے ایام عزا میں، حاج حبیب اللہ لک زائی کی شہادت کے چہلم کی مناسبت سے منتشر ہونے والی کتاب " حبیب دلھا " ( دلوں کے محبوب) کی عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے ثقافتی امور کے لائبریری ھال میں رونمائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں سب سے پہلے موسسہ ابنا ء الرسول (ص) کے ایڈیٹرانچیف نے خطاب کیا۔ انہوں نے سید الشہدا ء امام حسین (ع) اور ان کے با وفا ساتھیوں کی شہادت کی مناسبت سے تعزیت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ حاضرین کو اس نورانی محفل میں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ ، حاج حبیب اللہ لک زائی کی شہادت کے چہلم کی مناسبت سے منتشر ہونے والی کتاب " حبیب دلھا " ( دلوں کے محبوب) کا پہلا ایڈیشن چھپ چکا ہے اور عنقریب اس کتاب کو قیام و شہادت و قربانی کی ثقافت سے وابستہ شخصیات کے درمیان تقسیم کر دیا جائے گا۔ ابنا نیوز ایجنسی کے ایڈیٹرانچیف حجت الاسلام والمسلمین حسینی عارف نے شہید حبیب لک زائی کو دفاع مقدس کی یادگار اور صوبہ سیستان کی سپاہ بسیج کے بانیوں میں سے شمار کرتے ہوئے کہا " شہداء کی سیرت اور کردار کو جوان نسل کے لیے بیان کرنا چاہیے۔" تاکہ انہیں معلوم ہو کہ موجودہ امن وامان شہداء کے پاکیزہ خون کا ثمرہ ہے۔ابنا کے ایڈیٹرانچیف حجت الاسلام والمسلمین حسینی عارف نے اپنے خطاب کے دوران شہادت کی ثقافت کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھار یہ سوال کیا جاتا ہے کہ واقعہ تاسوکی اور شہید لک زائی کے متعلقہ خبروں کو اتنی ا ہمیت کیوں دی جاتی ہے ؟انہوں نے اس سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس چیز کی اصلی وجہ یہ نہیں ہے کہ چونکہ حجت الاسلام والمسلمین دکتر نجف لک زائی عالمی اہل بیت (ع) نیو ز ایجنسی کے ثقافتی امور کے انچارج ہیں لہذا ان کے توسط سے شہید لک زائی کی خبروں کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے بلکہ نجف لک زائی کے انچارج بننے سے پہلے بھی ابنا نیوز ایجنسی اس واقعے کو اتنے ہی شور و زور سے بیان کر رہی تھی انہوں نے فرمایا کہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شیعہ ہونے کی بنا پر ان کو شہید کیا گیا۔ اس واقعہ میں دہشت گردوں نے شیعہ، سنی تفرقہ ایجاد کرنے کے لیے تاسوکی کے ریگستان میں مسافروں کو بس سے اتارا پھر ان میں شیعوں کو علیحدہ کیا کچھ کو شہیدکر دیا اور بقیہ کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کتاب " حبیب دلھا (دلوں کے محبوب) کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ اس کتا ب کے اندر 3 فصول، 11 گفتار اور 2 ضمیمہ لکھے گئے ہیں فصل اول میں شہید کی زندگی کے آخری لمحات، بائیو گرافی اور خود شہید کے تحریر کردہ آثار کوقلمبند کیا گیاانہوں نے آخر میں کتاب کی کتاب کی خوبیوں کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ مؤلف کی زحمات کو بھی سراہا۔......./110
20 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 366469
ابنا نیوز ایجنسی کے ایڈیٹرانچیف نے شہید حبیب لک زائی کو دفاع مقدس کی یادگار اور صوبہ سیستان کی سپاہ بسیج کے بانیوں میں سے شمار کرتے ہوئے کہا " شہداء کی سیرت اور کردار کو جوان نسل کے لیے بیان کرنا چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ موجودہ امن وامان شہداء کے پاکیزہ خون کا ثمرہ ہے۔"